بعض لوگ بچے کی پیدائش کے کئی دن بعد تک اذان نہیں دلاتے، کیا یہ درست ہے؟
بعض لوگ بچے کی پیدائش کے کئی دن بعد تک اذان نہیں دلاتے، کیا یہ درست ہے؟ کتنی مدت ہونی چاہئے؟ اور کیا متعینہ مدت کے بعد اذان و اقامت ساقط ہوجاتی ہے؟ عادل شیخ ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:ولادت کے بعد بچے کے کان میں اذان و اقامت ایک مسنون عمل ہے۔ روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت حسنؓ کی پیدائش کے بعد ان کے کان میں خود اذان دی تھی۔ اس روایت میں اذان کا ذکر ہے لیکن دیگر روایات میں دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کا بھی ذکر ہے جیسا کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیزؒ سے منقول ہے کہ وہ دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہتے تھے (شرح السنہ)۔ مسند ابو یعلی میں حضرت حسینؓ سے منقول ہے کہ بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہہ دی جائے تو ام الصبیان (وہ مرض جسے بعض لوگ سوکھا بھی کہتے ہیں اس)سے حفاظت رہتی ہے۔ مستحب یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اسے غسل دےکر جس قدر جلد ہوسکے اس کے کان میں اذان واقامت کہہ دی جائے (بلاوجہ کی تاخیر مناسب نہیں) تاکہ اسکے کان میں پہلی جو آواز پہنچےوہ اللہ کا نام ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حضرات کے بقول بروقت کوئی مرد موجود نہ ہو تو اگر وہاں موجود کوئی عورت( جو حیض ونفاس سے پاک ہو وہ) اذان واقامت کہہ دے تو سنت ادا ہوجائے گی۔ (واضح رہے کہ بعض سے اس کا انکار بھی منقول ہے) خلاصہ یہ ہے کہ تاخیر مناسب نہیں الا یہ کہ کوئی عذر ہو جیسے بعض بچوں کو فورا آکسیجن میں رکھ دیاجاتا ہے ۔یہ عذر ہے لہٰذا جب باہر آئے اس وقت اذان واقامت کہی جائے تو حرج نہیں۔ نصوص میں تاخیر کی حد نہیں بتائی گئی تاہم اگر غفلت یا کسی وجہ سے تاخیر ہوگئی تو جب یاد آئے اس وقت یہ سنت پوری کرلی جائے تو کافی ہے ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
نماز میں آیت چھوڑ دینا
اگر نماز میں سورت کے درمیان میں سے کوئی ایک آیت چھوٹ گئی، تو کیا نماز ہو جائے گی ؟ عبداللہ ، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: قرأت میں کوئی ایسی غلطی ہو جائے جو معنی کو فاسد کردے اسی صورت میں نماز کے نہ ہونے کا حکم ہوتا ہے۔ قرأت کی ممکنہ غلطیوں کو فقہاء نے تفصیل کے ساتھ یکجا کردیا ہے۔ اعراب کی غلطی، الفاظ کی تبدیلی،ایک آیت کی جگہ دوسری آیت کی تلاوت وغیرہ متعدد صورتیں ہیں۔ کس صورت میں کیا حکم ہے تفصیل سے اس پر کلام کیاگیا ہے۔ دوران قرأت درمیان سے کوئی ایک آیت چھوٹ جائے ممکن ہے اس کابھی تذکرہ ہواہو لیکن عام حالات میں درمیان سے کوئی آیت چھوٹنے سے معنی میں فساد کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی پھر بھی کہا گیا کہ آیت چھو‘ٹی ہے، اس کے بعد قاری نے کیا کیا پڑھا ہے اور جو پڑھا ہے وہ معنی میں فساد پیدا کرتا ہے یا نہیں، نماز کے ہونے نہ ہونے کا فیصلہ اس کے بعد ہی ممکن ہے۔ عام حالات میں یہ فساد کی کوئی وجہ نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
خادمین مسجد کا الگ نماز ادا کرنا
چند افراد کو ہم نے اپنی مسجد میں خادم و چوکیدار رکھا ہے جو نماز کے دوران مسجد کی نگرانی کرتے ہیں اور نمازیوں کے سامان وغیرہ کی دیکھ بھال کرتےہیں، اور پھر جماعت ختم ہونے کے بعد وہ چند لوگوں کے ساتھ مل کر علاحدہ جگہ پر یعنی مسجد سے متصل جماعت کے کمرے میں اپنی باجماعت نماز ادا کر لیتے ہیں، تو کیا اس طرح سے ان کو جماعت کا پورا ثواب ملے گا ؟محمد احمد، دہلی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: مسجد کتنی وسیع و عریض ہے، وہاں مقامی حالات کیا ہیں، کیا وہاں چوریاں عام ہیں جن کی وجہ سے نگرانی کے لئے خدام اور چوکیدار مقرر کرنے کی نوبت درپیش ہے اس کا تفصیلی تجزیہ کرنے پر ہی حکم واضح ہوسکتا ہے۔ اگر وہاں کے مقامی حالات واقعی مستقل نگرانی کے متقاضی ہیں تو خدام وغیرہ کا تقرر ایک مجبوری ہے ورنہ یہ حضرات آخری صفوں میں کسی مناسب جگہ پر کھڑے ہوکر اقتدا کرلیا کریں،بلا وجہ ترک جماعت کے مرتکب نہ ہوں ورنہ منتظمین بھی ذمہ دار ہوںگے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم۔